پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،پولینڈ سفیر

پولینڈ کے سفیر میسیئج پیسارسکی نے کہا ہے کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارتی حجم ایک بلین ڈالر کے قریب ہے،پاکستان نے جی ایس پی پلس سٹیٹس کی بدولت 800 ملین ڈالر کی اشیا برآمد کیں،پولینڈ کی مارکیٹ تک پاکستانی اشیا کو ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے جبکہ گزشتہ سال پولینڈ کی پاکستان کے لئے برآمدات 128 ملین ڈالر رہیں۔انہوں نے لاہور چیمبر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لاہور چیمبر کی کاوشوں اور کوششوں کی بدولت ہی یہ وفد پاکستان آیا ہے اور اس ضمن میں لاہور چیمبر کا کردار قابل تعریف ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پولینڈ کے ایک اعلی سطحی تجارتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ لاہور میں پولینڈ کے اعزازی قونصل جنرل احمد حسنین،پولینڈ منسٹری آف موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات سے جوانا زید انووسکا،لاہور چیمبر کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے اراکین اور بزنس کمیونٹی کے نمائندگان کی ایک کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر پاکستانی اور پولینڈ کے بزنسمین کی بی ٹو بی میٹنگز بھی منعقد ہوئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاشف انور نے لاہور چیمبر کے ساتھ قریبی اور باقاعدہ رابطہ رکھنے پر پولینڈ کے سفیر کی تعریف کی اور کہا کہ پولینڈ کے سفیر پاکستان کے امیج بلڈنگ کے لئے پوری دنیا میں بہتریں پیغام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولینڈ نے پاکستان کی وہ تصویر دنیا کو دکھائی ہے جو میڈیا میں نظر نہیں آتی۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس دورے سے پاکستان اور پولینڈ کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ پولینڈ کے وفد کے دورہ لاہور چیمبر سے پاکستان کا ایک بہترین امیج پوری دنیا میں اجاگر ہو گا اور ملکی معیشت کی بہتری میں اس دورہ کا کردار بہت اہم ہے۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ پولینڈ کے مندوبین کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پولینڈ پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے اور اس وقت پورے یورپ میں پاکستانی مصنوعات کی آٹھویں بڑی برآمدی منڈی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تجارت کا حجم جو 2022-23 میں تقریبا423 ملین ڈالر تھا اسے کم از کم2 بلین ڈالر تک لے جانا چاہیے،اس سلسلے میں معزز مندوبین جو مختلف شعبوں جیسے ہاوسنگ، ڈویلپرز، ووڈن پیلٹ، ویسٹ مینجمنٹ پلانٹس، کیمیکلز، کنسٹرکشن،مائننگ، ریفائنریز،الیکٹرانکس،پینٹ اور وارنش کے سیکٹرز سے تعلق رکھتے ہیں اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ لاہور چیمبر کے ممبران بی ٹو بی میٹنگز سے پوری طرح استفادہ کریں گے اور اپنے پولش ہم منصبوں کے ساتھ نیٹ ورکنگ کو فروغ دیں گے۔کاشف انور نے کہا کہ پاکستان سمیت کئی ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہیں،پاکستان خاص طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے کیونکہ اس میں عام طور پر گرم آب و ہوا ہے جو زیادہ تر عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزید نقصانات سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے ماحولیاتی نظام کو بحال کرنے،کلین گرین انڈیکس کو بہتر بنانے،آب و ہوا کے خلاف مزاحم،شہری ترقی اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کے لیے اپنے دوست ممالک سے مدد کی ضرورت ہے۔اس معاملے میں پولینڈ کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔صدر لاہور چیمبر نے حکومت پاکستان کی طرف سے قائم کردہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے کا خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسل بنیادی طور پر پانچ شعبوں بشمول دفاع،زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی،ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی میں نئی سرمایہ کاری لانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ پولینڈ کے سرمایہ کاروں کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت پاکستان میں سرمایہ کاری کے ان مواقعوں کو بھی دیکھنا چاہئے۔

پولینڈ کے سفیر نے کہا کہ پولینڈ کے سرمایہ کار موجودہ مواقعوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی صلاحیت کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لائیں گے جبکہ پولینڈ کی ایمبیسی پولینڈ کے کاروباری افراد کی پاکستان میں دستیاب تجارتی مواقع حوالے سے بھی رہنمائی کر رہی ہے۔پولینڈ کے سفیر نے پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولینڈ کی معیشت1.4 ٹریلین ڈالر حجم کے ساتھ دنیا میں21 ویں نمبر پر ہے اور یورپی یونین کی چھٹی سب سے بڑی معیشت ہے،ہم یورپی یونین میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہے ہیں اور1990 کے بعد سے پولینڈ کی معیشت نے900 فیصد اضافہ کیا ہے،اس سال پولینڈ کی درآمدات اور برآمدات تقریبا 700 ارب ڈالر رہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی مضبوط ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں دھاگے کی پیداوار،کپڑا سازی اور گارمنٹس کی پیداوار شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں