موبائل پر سکرولنگ سے دماغ پر ہونے والے منفی اثرات اور اس سے بچنے کے تین آسان طریقے

 آپ کے سامنے ایک کے بعد ایک کلپس آتے ہیں جن میں ایک کتے کی ویڈیو، پھر ساحل سمندر پر ایک پرانے دوست کی تصویر، پھر ایک ویڈیو میم، پھر دور دیس کی خبریں۔ ان میں سے جو آپ کو پسند ہے وہ آپ دیکھتے ہیں اور جو پسند نہیں ہے اسے چھوڑ کر آپ آگے بڑھ جاتے ہیں۔سکرین کو یونہی آگے سے آگے بڑھاتے رہنے کی یہ عادت اب ہم میں سے بہت سے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور ایسا حصہ کہ بعض اوقات ہم لفٹ میں بھی ہوتے ہیں تو چند سیکنڈ کے لیے بھی اسے دیکھنا نہیں بھولتے اور سونے سے پہلے گھنٹوں موبائل پرویڈیو سکرولنگ کا یہ عمل جاری رہتا ہے۔لیکن جب ہم اپنے موبائل فون پر سکرول کرتے ہیں تو اعصابی طور پر اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟ ہمیں اس قدر اس کی عادت کیوں پڑ جاتی ہے؟ اور ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اب عادت تو چلیں پڑ ہی گئی مگر اس سے اب دور کیسے رہا جا سکتا ہے اور اسے ایک مسئلہ بننے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟لیڈز کی بیکٹ یونیورسٹی میں سائیکالوجی یعنی نفسیاتی ماہر اور سینیئر لیکچرر ایلیش ڈیوک کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم میں فون اٹھا کر جو سکرین کو آن کرنے کی چاہت ہے یا جو چیز سکرولنگ پر ہمیں متحرک کرتی ہے وہ اپنے آپ پیدا ہوتی ہے یا جبلی ہے۔ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ ہم نے اس عادت کو ایک طویل عرصے سے بنا رکھا ہے، جیسے کہ گھر سے نکلتے وقت دروازہ بند کرنا بھی ہماری جبلت یا عادت میں شامل ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’چند سال پہلے کی گئی ایک تحقیق میں شرکا نے بتایا کہ وہ ہر 18 منٹ میں اپنا فون چیک کرتے ہیں،

لیکن جب ہم نے ان کی سکرین ریکارڈنگ کے استعمال کو دیکھا تو ہمیں علم ہوا کہ وہ درحقیقت بہت زیادہ بار اپنا فون چیک کر رہے تھے۔‘پہلی کلک جو ہم اپنے فون کی سکرین کو آن کرنے کے لیے کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی ہمارے دماغ کے کچھ افعال اور ہمارے سیل فون ایپلی کیشنز کے جدید ترین ڈیزائن کامل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے لگتے ہیں۔لینگون کی نیویارک یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے تعلق رکھنے والی پروفیسر ایریانے لِنگ کے مطابق سکرولنگ جیسی عادتیں انسان کے قدرتی ہونے کی وضاحت کرتی ہیں لیکن ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔لِنگ بتاتی ہیں کہ فطری طور پر انسان یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ اسی لیے ہم خبریں پڑھتے ہیں یا مثال کے طور پر جب سڑک پر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو دیکھنے کے لیے رک جاتے ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے جو ارتقائی ترقی کا حصہ ہے جس نے ہمیں باقی رکھا ہے۔اور ہمارا سیل فون ہمیں ایسی معلومات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں ہماری دلچسپیاں ہوں۔

اس لیے انسان اور اس کا موبائل ایک بہترین جوڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں