الیکٹرک بائیکس قسطوں پر دینا چاہتے ہیں مگر بینک قرض دینے پر راضی نہیں، حکام

 

   موسمیاتی تبدیلی کے حکام نے کہا ہے کہ ملک میں تین کروڑ بائیکس ہیں جن سے کاربن گیسز کا اخراج ہورہا ہے ان کی جگہ الیکٹرک بائیک لانے کیلیے پالیسی تیار کررہے ہیں مگر بینک قرض دینے پر راضی نہیں، شہری بھی ای بائیکس پسند نہیں کرتے۔

سینیٹر سیمی ایزدی کے زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکام نے نئی کاربن پالیسی کی ڈرافٹنگ پر تفصیلی بریفنگ دی۔

حکام نے کہا کہ 10 بلین سونامی ٹری منصوبے کی کامیابی کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے، ابھی تک منصوبے کے تحت پونے 3 ارب درخت لگائے ہیں، 10 بلین ٹری منصوبے سے کاربن کا اخراج 147 ملین ٹن کم ہوگا، 10 بلین ٹری منصوبے کا کاربن کریڈٹ نہیں بیچ سکتے۔

ماحول دوست ٹرانسپورٹیشن کے ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی آصف حیدرشاہ نے کمیٹی کو بتایا کہ الیکٹرک بائیک کے معاملے پر بینک تعاون نہیں کررہے، ہم نے اسٹیٹ بینک سے بھی بات کی ہے لیکن اسٹیٹ بینک کہتا ہے ہم نجی بینک کو فورس نہیں کرسکتے، ہمارے ملک میں پونے تین کروڑ کے قریب موٹر سائیکلز ہیں جن سے نقصان دہ گیسسز کا اخراج ہوتا ہے، ہنڈا بھی اب الیکٹرک بائیک بنانے جارہا ہے جو بڑا بریک تھرو ہوگا، ہر سال 26 لاکھ نئی موٹرسائیکلیں مارکیٹ میں آتی ہیں جن میں سے صرف 25 ہزار بجلی پر چلنے والی موٹر بائیک ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے حکام نے کہا کہ الیکٹرک موٹر سائیکل کو قسطوں پر دستیاب بنانے کے لیے کوشاں ہیں بینک الیکٹرک وہیکل اور بائیکس کے لیے قرض دینے کے لیے رضامند نہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ شور کی آواز نہ آنے کی وجہ سے پاکستانی شہری الیکٹرک بائیک کو موزوں نہیں سمجھتے، پاکستانی شہری 3 یا اس سے زیادہ سواریوں کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ای بائیکس پسند نہیں کرتے، شہریوں کو الیکٹرک بائیکس قسطوں پر دینے کے لیے پالیسی بنائی جارہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں