تعمیراتی شعبہ اور اس سے منسلک دیگر شعبوں میں تیزی لا کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں،بلال قدوس

پاکستان کے تعمیراتی شعبہ میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں جن کے ذریعے نہ صرف ملک میں گھروں کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت سے وابستہ 70سے زائد شعبوں کو بھی ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی نمائندگی کرتے ہوئے بلال قدوس منج نے بین الاقوامی بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن انڈسٹری ایکسپو سے بطور مہمان اعزاز خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے مذکورہ نمائش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ہمیں ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جس میں سورج کی روشنی کو بھر پور طریقے سے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سردیوں میں حرارتی طور پر عمارتوں کو گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں آبادی کے دباؤ اور دیہاتوں کی طرف سے شہروں کی طرف منتقلی سے گھر کی تعمیر سنگین صورت اختیار کر چکی ہے اس مقصد کیلئے حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ تعمیراتی شعبہ سے منسلک دیگر شعبوں میں بھی تیزی لا کے روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس وقت بیکار پولی تھین کے شاپرزرعی زمینوں کے زرخیزی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں پلاسٹک سڑکوں کی تعمیر کی بھی تجویز ہے جس کو جلد عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایکسپو کے منتظمین کی کوششوں کو بھی سراہا۔نمائش میں سو سے زائد سرکردہ کمپنیوں نے اپنے سٹال لگائے جبکہ تین روز کے دوران دس ہزار سے زائد افراد نے نمائش میں رکھی گئی مصنوعات اور ٹیکنالوجی دیکھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں