ملکی معیشت کی تباہی میں ٹرانزٹ معاہدے کا کرداراہم ہے۔ میاں زاہد حسین

سمگلنگ کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لائی جائے۔ معیشت کو دستاویزی کیا جائے۔ بحران کے خاتمے کے لئے با اثر ٹرانزٹ مافیا کو پکڑا جائے۔

نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ایک طرف غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی اورکرنسی سمگلروں کے خلاف کاروائی کےعلاوہ ہر ممکن طریقے سے ڈالر بچائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ٹرانزٹ مافیا کی من مانیاں جاری ہیں۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے گارگو میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ ٹرانزٹ مافیا سرحد کے دونوں جانب سرگرم ہے اوراس میں دونوں ممالک کے با اثرافراد شامل ہیں۔ سالہا سال سے جاری ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے نے پاکستان کی معیشت کو تباہ و برباد کر ڈالا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسٹمز کے اعداد وشمارکے مطابق 2022 میں 74316 کنٹینر پاکستان سے افغانستان گئے جبکہ 2023 میں یہ تعداد 102886 ہوگئی۔ اعداد وشمار کے مطابق ان کنٹینروں میں جانے والا سامان جو 2022 میں چارارب ڈالرکا تھا 2023 میں 6.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا مگر یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ اس ٹریڈ کے تحت جانے والے کنٹینروں میں دکھایا کچھ جاتا ہے اور ہوتا کچھ اور ہے جبکہ بہت سے کنٹینر افغانستان جانے کے بجائے پاکستانی مارکیٹوں میں ہی خالی کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ کام متعلقہ محکمے کی کالی بھیڑوں کی ملی بھگت سے ہوتا ہے اور اگر کبھی کوئی اس کے خلاف آوازاٹھائےتواسکی زندگی کوعذاب بنا دیا جاتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ پاکستان میں صنعتکاری کے لئے حالات پہلے ہی خراب ہیں اور رہی سہی کسرسمگلنگ پوری کر دیتی ہے اس لئے یہاں صنعتکار بھی پراپرٹی ڈیلر بن رہے ہیں جبکہ صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کو سراسر نقصان سمجھا جاتا ہے۔ اس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے جبکہ صنعت میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ کئی دہائیوں کے بعد ملک میں سمگلنگ کے خلاف نتیجہ خیز کوششیں شروع کردی گئی ہیں کیونکہ ملک کی بقاء داؤ پرلگی ہوئی ہے۔ سرحدوں کی نگرانی کی جارہی ہے، سمگل ہونے والی اشیاء کی نقل و حمل پرسختی کی جارہی ہے اوردیگر اقدامات بھی جاری ہیں۔ ان اقدامات کے علاوہ یہ اشیاء سمگل کرنے والی با اثر ٹرانزٹ مافیا اورانھیں فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کی ضرورت ہے۔ ملک بھر میں ایسی مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں جن میں سمگل شدہ سامان دھڑلے سے بیچا جا رہا ہے اور انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ پرمکمل پابندی عائد کرنا حکومت کے لئے شاید مشکل ہومگراس معاہدے کے زریعے ملکی معیشت تباہ کرنے والوں کے خلاف سخت ترین انتظامی کاروائی کی ضرورت ہے مگر اس برائی کے مستقل تدارک کے لیے معیشت کو مکمل طور پر دستاویزی کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں