کاروباری برادری کے اعتماد میں کمی تشویشناک ہے۔ میاں زاہد حسین

نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک بھر کے تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مسلسل کمی واقع ہونا تشویشناک ہے۔ کارcوباری برادری اقتصادی مسائل کی وجہ سے پریشان ہے کاروبار مسلسل بند ہو رہے ہیں اورعوام بے روزگار ہو رہی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار بیک وقت سیاسی، اقتصادی اور آئینی بحران کی وجہ سے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری میں عدم تحفظ مسلسل بڑھ رہا ہے جو ملک سے ڈالر اور صنعتوں کے فرار کا سبب بن رہا ہے۔

کاروبار کرنے والے بہت سے افراد کا خیال ہے کہ ملک درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا ہے اور یہ کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو رہے ہیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہے۔  میاں زاہد حسین نے کہا کہ کاروباری برادری بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب بھی پریشان ہے کیونکہ ملکی آبادی کی بھاری اکثریت اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کھانے پینے پر خرچ کر رہی ہے اور ان حالات میں جب کہ ان کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے وہ ضروریات زندگی کے دیگر لوازمات خریدنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ اس وجہ سے بہت سے کاروبار بند ہو چکے ہیں جبکہ باقی مسلسل سکڑ رہے ہیں۔ ادھر مقامی کرنسی کی قیمت بھی مسلسل گر رہی ہے جبکہ بینک مارک اپ، بجلی اور ایندھن کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جس نے کاروبار کو مزید مشکل بنا دیا ہے اورعوام کے لئے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے قرضے میں تاخیر اور قبل از وقت الیکشن کے جھگڑے نے بے یقینی، عوام اور کاروباری برادری میں خدشات کو جنم دیا ہے جس سے انکا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ عوام اور بزنس کمیونٹی کوآئی ایم ایف کے قرضے کے بارے میں کئی ماہ سے تسلی بخش بیانات کے علاوہ کچھ سننے کو نہیں مل رہا ہے جس سے انکی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ملک میں جاری سیاستدانوں اور اداروں کے جھگڑوں کا ملکی ترقی، آئین اور قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ساری کوشش اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی ہے جس کے لئے سیاسی داؤ پیچ آزمائے جا رہے ہیں اور ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں