کراچی چیمبر آف کامرس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹرمینل آپریٹرز، شپنگ کمپنیوں کو ڈیمریج، ڈیٹینشن چارجز ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالے۔

کراچی چیمبر کے صدر محمد طارق یوسف نے کے پی ٹی اور پی کیو اے کی ڈیمریج چارجز معاف کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے ٹرمینل آپریٹرز اور شپنگ لائنز پر زور دیا کہ وہ بھی تاجر برادری کے ساتھ بھاری ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز کا بوجھ بانٹ کر اسی طرز عمل کو اپنائیں تاکہ پھنسے ہوئے ہزاروں کنٹینرز کو جلد از جلد ریلیز کیے جاسکیں جس سے تقریباً رکی ہوئی تجارتی، صنعتی اور اقتصادی سرگرمیاں معمول پر آسکیں گی۔

کے پی ٹی اور پی کیو اے میں بمشکل 5 سے 10 فیصد کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں جبکہ بقیہ90فیصد کنٹینرز نجی ٹرمینلز پر پڑے ہیں جنہیں حکومت پہلے ہی اپنے ڈیمریج چارجز سے دستبردار ہونے کی درخواست کر چکی ہے جبکہ شپنگ لائنز کو ڈیٹینشن چارجز میں بھی کچھ نرمی کرنی چاہیے تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں تاجر برادری کو درپیش مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ بندرگاہوں پر ہونے والی تباہ کن صورتحال خالصتاً غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیے بغیر عجلت میں نافذ کی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں