کرغزستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، کرغز سفیر

پاکستان میں کرغزستان کے سفیر اولان بیک توتوئیف نے دونوں ممالک کے درمیان موجود وسیع تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے اور موجودہ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جمعہ کو یہاں کرغزستان ٹریڈ ہائوس کے افتتاح کے موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں پاکستانی خریداروں اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے یہاں کرغزستان کی مصنوعات کی نمائش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے مابین خوشگوار تعلقات قائم ہیں لیکن موجودہ دوطرفہ تجارت 8 سے 9 ملین ڈالر ہے جو ان کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک محدود شعبوں میں تجارت کر رہے ہیں جس میں اضافے کیلئے انہیں متنوع شعبوں میں تجارت کے فروغ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان نے رواں سال پاکستان کو کوئلہ برآمد کیا ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کو مزید مصنوعات فراہم کر سکتا ہے جبکہ پاکستان سے کرغزستان کو فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات سمیت بہت سی اشیاءبرآمد کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان بھارت سے ماربل درآمد کر رہا ہے اور پاکستانی ماربل ایکسپورٹرز بھی اس مارکیٹ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ چین۔

کرغزستان۔ازبکستان ریلوے منصوبے کو مستقبل میں افغانستان کے راستے پشاور تک بڑھایا جائے گا جو تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ گذشتہ جمعہ کو پاکستان اور کرغزستان نے اقتصادی و تجارتی تعاون اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ کرغزستان ٹریڈ ہائوس (کے ٹی ایچ) کے چیئرمین مہر کاشف یونس، جو وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر اور گولڈ رنگ اکنامک فورم کے نائب صدر بھی ہیں، نے اس موقع پر کہا کہ کے ٹی ایچ دونوں ممالک کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا اور دلچسپی رکھنے والے پاکستانی تاجروں کو سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے کرغزستان کا دورہ کرنے میں سہولت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا فروغ علاقائی اور عالمی تجارتی انضمام اور روابط میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور کرغزستان اپنی جیو اکنامک اہمیت کے باعث مختلف خطوں اور عالمی منڈیوں کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان کا جغرافیائی محل وقوع پاکستان کے ساتھ تجارت کے بہت سے مواقع فراہم کرتا ہے کیونکہ یہ روس، کرغزستان، قزاخستان، بیلاروس اور آرمینیا کی 182 ملین آبادی پر مشتمل یوریشین اکنامک مارکیٹس تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کیلئے مختصر ترین راستہ ہے۔

مہر کاشف یونس نے کہا کہ سیاحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں مواقع کا جائزہ لینے کیلئے پاکستان کا ایک تجارتی وفد جلد ہی کرغزستان کا دورہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں پاکستان اور کرغزستان کا تجارتی حجم 5.9 ملین ڈالر رہا جس میں پاکستان کی برآمدات 5.3 ملین ڈالر اور درآمدات 0.6 ملین ڈالر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تجارتی حجم کوکئی گنا بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں