اگرہم نے پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھائیں تو آئی ایم ایف معاہدہ نہیں کرے گا، وزیرخزانہ

 وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز جون میں لگیں گے تو ایسا بل آئے گا اللہ معاف کرے، اگر ہم نے قیمتیں نہ بڑھائیں تو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) ہم سے معاہدہ نہیں کرے گا اگر جولائی تک پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم نہ کی تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔  

پوسٹ بجٹ سیمنار سے خطاب کے دوران انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کو کہا کہ ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑیں گے، پیٹرول کی قیمت بڑھانے پر وزیر اعظم اس بات پر سخت ناخوش ہیں، میری طرف سے سمری جاتی ہے اور وزرا مجھے کوستے ہیں، اگر ہم نے سخت فیصلے نہیں کئے تو تباہی ہوگی۔

گیس کی قیمتیں بڑھانے کا عندیہ 

مفتاح اسماعیل نے گیس کی قیمتیں بڑھانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ گیس کے محکمے میں بھی خسارے کا سامنا ہے، گیس کا سرکلر ڈیٹ 1500 ارب روپے کا ہوگیا ہےگیس میں ابھی تھوڑی سی گنجائش ہےچار ہزار کی گیس لے کر 500 روپے کی تو نہیں دے سکتے،ستر فیصد گھریلو صارفین کو 500 کے قریب بل آتا ہے

انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر 19 روپے اور ڈیزل پر 53 روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں، سری لنکا میں بہت سبسڈیز دی گئیں اور وہ دیوالیہ ہوگیا، آج وہ مہنگا پٹرول اور ڈیزل خرید رہے ہیں اور دوائی وہاں نہیں مل رہی۔

’سرکلر ڈیٹ مزید بڑھا تو نظام بیٹھ جائے گا‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بجلی کا سرکلر ڈیٹ مزید بڑھا تو نظام بیٹھ جائے گا کوئلہ کی انٹرنیشنل قیمت 20 سال سے 50 ڈالر سے زائد نہیں تھی، اب کوئلہ کی انٹرنیشنل قیمت 300 ڈالر سے زائد ہے، اگر جولائی تک پٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم نہ کی تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا

وزیر خزانہ نے کہا کہ جو بھی وزیر اعظم بنتا ہے اسے دوستوں کے پاس جانا پڑتا ہے، کب تک ہم دوستوں کے پیسوں پر چلیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو کچھ معاشی مسائل موجود تھے، میں نے کبھی بھی پاکستان کے ایسے حالات نہیں دیکھے، میں پہلے بھی وزیر خزانہ رہا ہوں،
کے الیکٹرک والے آئے تھے انہوں نے کہا کہ فلاں کے پیسے ہیں فلاں کے پیسے ہیں، میں نے کہا یہ تو وہی مسائل ہیں جو چار سال پہلے تھے۔

’آج گردشی قرضے 2500 ارب ہے‘

انہوں نے کہا کہ 30 سال سے یہی مسائل ہیں، چار سال پہلے گردشی قرضہ 503 ارب روپے تھا اور آج 2500 ارب ہے، امسال 500 ارب روپے کا گردشی قرضہ بڑھا ہے، 1100 ارب کی سبسڈی اور 500 ارب روپے کا گردشی قرضہ تھا۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ 1600 ارب روپیہ پاکستان کے عوام کے جیب سے ہی نکلا ہوگا، 100 یونٹ کے عوض ہم نے 3200 ارب کا نقصان کیا، بجلی کے شعبے میں نقصانات کی کئی وجوہات ہیں، 4 اکاوٹنٹسں کو بٹھائیں تو یہ مسائل تین دن میں حل کرلیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں