حکومت کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

 وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ آج گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی تین سالہ میعاد ختم ہو رہی ہے، حکومت نے ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ رضا باقر کی پاکستان کے لیے خدمات کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، میں نے ان سے بات کی اور انہیں حکومت کے فیصلے کے بارے میں بتایا ہے۔

وزیر خزانہ نے رضا باقر کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ وہ ایک غیر معمولی قابلیت کے حامل انسان ہیں اور ہم نے اپنے مختصر وقت میں ساتھ کام کیا، ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ ایف بی آر نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ کی بلند ترین ٹیکس وصولیاں کیں لیکن چیئرمین ایف بی آر کو ہٹا دیا گیا، وزیرخزانہ نے اعتراف کیا کہ رضا باقر غیر معمولی قابل آدمی ہیں، بہترین کام کیا اور اب انہیں بھی ہٹا دیا گیا۔ شہباز گل نے کہا کہ پاکستان پر اللہ رحم کرے، موجودہ حکومت کا نوٹ چھاپنے اور قرض کے ڈالر مارکیٹ میں جھونک کر ڈالر کی قیمت کم کرنے کا پلان ہے۔


پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اچھا ہوا رضا باقر کو ہٹا دیا گیا کیوں کہ ایسے پیشہ ور انسان کی موجودہ حکومت میں جگہ نہیں بنتی، عمران خان جب دوبارہ طاقت میں آئیں گے تو رضا باقر جیسے لوگ ملک کا اثاثہ ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں