نئی LPG پالیسی، بڑے درآمدکنندگان کیلیے مزید ٹیکس چھوٹ

نئی ایل پی جی پالیسی میں ایل پی جی کے درآمدکنندگان کے لیے ٹیکسوں میں رعایت تجویز جب کہ مقامی پروڈیوسرزکے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ 

وزارت توانائی کے حکام نے اپنے پیش روؤں کی روش پر چلتے ہوئے ایل پی جی کے مقامی پیداکاروں کے نقصان کی قیمت پر ایل پی جی کے درآمدکنندگان کو ٹیکسوں میں چھوٹ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

ایل پی جی پر قائم کی گئی ذیلی کمیٹی کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو نئی ایل پی جی پالیسی کا متنازع پلان جمع کرایا ہے جس میں چھوٹے ایل پی جی درآمدکنندگان اور  پروڈیوسرز کو جرمانے کرنے کی تجویز دیتے ہوئے پالیسی کا جھکاؤ مبینہ طور پر بڑے ایل پی جی درآمدکنندگان اور ایک پراؤیٹ ایل پی جی ٹرمینل  آپریٹر کی جانب رکھا گیا ہے تاکہ وہ مارکیٹ پر اجارہ قائم رکھ سکیں۔

واضح رہے کہ ایل پی جی کے درآمدکنندگان  ٹیکسوں میں چھوٹ کی بنا پر پہلے ہی اربوں کماچکے ہیں۔ لگائے گئے تخمینوں کے مطابق پچھلے  2 سال میں ایل پی جی کے درآمدکنندگان نے جی ایس ٹی کی شرح  کم ہونے کی وجہ سے 15ارب روپے تجوریوں میں بھرلیے۔

اب ذیلی کمیٹی نے تفتان، بلوچستان کے  زمینی  راستے سے ایل پی جی کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کی وجہ سے  زمینی راستے سے ایل پی جی درآمد کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی اور تمام درآمد سمندری راستے سے کرنے کی  کی حوصلہ افزائی ہوگی جس پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہیں ہے۔

حکام کا کہنا ہے یہ نئی ایل پی جی پالیسی  چینی اور گندم کی طرح اسکینڈل کو جنم دے سکتی ہے کیوں کہ اس میں  منتخب  ایل پی جی درآمدکنندگان کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی میں پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیز ایسوسی ایشن ( پیپکا) اور ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کے تحفظات  کا ازالہ نہیں کیا گیا اور نئی پالیسی کا جھکاؤ ایل پی جی کے درآمدکنندگان کی جانب ہے۔ مجوزہ نئی ایل پی جی پالیسی سے  ایل پی جی کے درآمدکنندگان اور ایک ایل پی جی ٹرمینل  کو فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مشاورت ہوتی تھی مگر جن نکات پر اتفاق رائے طے پایا تھا وہ  پالیسی ڈرافٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق  یہ سارا عمل مشکوک ہے  اور اس  سے اسٹیک ہولڈرز کو آگاہ نہیں رکھا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں