جاپان، ٹیکسٹائل امپورٹ میں پاکستان کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے

جاپان کی دو سو ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل امپورٹ میں پاکستان کا حصہ صرف ڈیڑھ سو ملین ڈالر ہے جس کے لیے پاکستان کو اعلی ترین حکومتی سطح پر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

 پاکستانی نژاد جاپانی کاروباری شخصیت اور جاپان میں پاکستانی ٹیکسٹائل امپورٹ کرنے اور پاک جاپان بزنس کونسل کے ڈائریکٹر ملک سلیم نے روزنامہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جاپان میں بھارت، بنگلہ دیش سری لنکا اور ویتنام کی ٹیکسٹائل مصنوعات بغیر کسی ڈیوٹی کے جاپان برآمد کی جارہی ہیں جبکہ پاکستانی مصنوعات پر چھ فیصد ٹیکس جاپانی حکومت کی جانب سے عائد کیا جارہا ہے۔

ملک سلیم نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کے معیار میں خرابی ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات اپنے معیار کے حساب سے بھارت بنگلہ دیش سری لنکا اور ویتنام سے کافی بہتر ہیں۔

جاپانی حکومت کی جانب سے عائد ڈیوٹی کے سبب پاکستانی مصنوعات جاپان میں کافی مہنگی پڑتی ہیں جس کی وجہ سے جاپانی خریدار بھارت اور دیگر ممالک کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو فوقیت دیتے ہیں۔

ملک سلیم نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان اعلیٰ ترین سطح پر جاپانی حکومت سے پاکستانی ٹیکسٹائل پر عائد چھ فیصد ٹیکس کے خاتمے کے لیے مذاکرات کریں تو صرف ایک سال میں ہی پاکستانی ٹیکسٹائل کی جاپان کو برامدات کو ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہےْ

اس وقت جاپان میں پاکستانی سفیر امتیاز احمد پاکستانی برآمدات میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ کمرشل قونصلر طاہر چیمہ بھی پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی جاپان کو برآمدات میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ پاکستان جلد مثبت نتائج حاصل کرلے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں