تعمیرات کے شعبہ کو انڈسٹری کا درجہ

تعمیراتی شعبے کو ایمنسٹی دیدی گئی،  لگائی گئی رقم کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا

 حکومت نے تعمیراتی شعبے کو ایمنسٹی دیدی ‘کنسٹرکشن انڈسٹری میں لگائی گئی رقم کا ذریعہ نہیں پوچھا جائیگا‘ وفاقی کابینہ نے تعمیراتی صنعت کے لئے مراعاتی پیکیج کے آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے‘ آرڈیننس کے تحت تعمیرات کے شعبہ کو انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ءمیں ترمیم کرتے ہوئے فی مربع فٹ/فی مربع گز کی بنیاد پر فکسڈ ٹیکس کا نفاذ کیا گیا ہے۔ سیمنٹ اور اسٹیل کے سوا تمام مٹیریل پر کوئی ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں ہوگا۔ بلڈرز اور ڈویلپرز کے لئے فکسڈ ٹیکس رجیم متعارف کرایا گیا ہے۔

آرڈیننس کے تحت نئے منصوبوں میں بنیادی سرمایہ کاری کو بعض شرائط کے ساتھ آمدنی کی وضاحت سے متعلق سیکشن 111 سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ تعمیرات اور لینڈ ڈویلپمنٹ کے لئے پلانٹ اور مشینری کی درآمد کو وہی سہولیات دی جائیں گی جو دیگر صنعتوں کو حاصل ہیں۔

آرڈیننس کے تحت سیلز ٹیکس قوانین میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔جائیدادوں کی نیلامی پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

بلڈرز اور لینڈ ڈویلپرز کو انکم ٹیکس اور کیپیٹل گین ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہوگی جبکہ سروسز ٹیکس اور کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی )بھی ختم کردیئے گئے ہیں ۔

صدرمملکت نے وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد کنسٹرکشن انڈسٹری کے مراعاتی پیکج کے آرڈیننس پردستخط کردیے ہیں جس کے ساتھ ہی آرڈیننس اب قانون بن گیا ہے اور تعمیراتی صنعت کےلیے مراعاتی پیکج پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں